صحیح مسلم حدیث ۲۹۸ - سودے میں جھوٹی بات

سودے کے بھاؤ میں سچائی: جھوٹی قسم سے بچنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۸

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ : وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ .

‏‏‏‏ اعمش کی سند میں بھی پہلی روایت ہی کی طرح الفاظ ہیں مگر جریر کی حدیث میں یہ لفظ ہیں کہ ”ایک وہ شخص جو اپنے سودے کا بھاؤ دوسرے شخص سے کرتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۹۸ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلے مضمون ہی کے الفاظ کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے، مگر ایک لفظ میں یہ بات آئی کہ ایک شخص اپنے سودے کا بھاؤ دوسرے شخص سے کرتا ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ خرید و فروخت میں جھوٹ، فریب اور جھوٹی قسم سے بچنا ضروری ہے۔ جب کوئی شخص اپنا مال بیچتے وقت قیمت یا خریداری کے بارے میں غلط بات کہتا ہے تو خریدار اسے سچ سمجھ کر فیصلہ کر سکتا ہے۔ سودے میں جھوٹی قسم کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کاروبار صرف مال کمانے کا نام نہیں، بلکہ امانت اور سچائی کا امتحان بھی ہے۔ مسلمان تاجر کو فائدہ چاہیے، مگر سچ چھوڑ کر نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سودے کے بھاؤ میں جھوٹ بولنا خطرناک معاملہ ہے۔
  • خریدار کو غلط اعتماد دلا کر مال بیچنا درست نہیں۔
  • کاروبار میں سچائی مسلمان کی پہچان ہونی چاہیے۔
  • جھوٹی قسم سے حاصل کیا گیا فائدہ دینی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں