صحیح مسلم حدیث ۲۹۹ - مسلمان کے مال پر جھوٹی قسم
مسلمان کے مال پر جھوٹی قسم: حدیث کی سخت ممانعت
صحیح مسلم : ۲۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۹
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُرَاهُ مَرْفُوعًا ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ فَاقْتَطَعَهُ ، وَبَاقِي حَدِيثِهِ نَحْوُ حَدِيثِ الأَعْمَشِ .
یہ روایت بھی ایسی ہے، اس میں یہ ہے: ” جس نے قسم کھائی عصر کی نماز کے بعد ایک مسلمان کے مال پر پھر مار لیا اس کو۔ “ (یعنی جھوٹی قسم کھا کر)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۹ کا خلاصہ
اس روایت میں خاص طور پر اس شخص کا ذکر ہے جو عصر کی نماز کے بعد ایک مسلمان کے مال پر جھوٹی قسم کھاتا ہے اور اس کے ذریعے مال لے لیتا ہے۔ حدیث کے باقی الفاظ پچھلی روایت کے قریب ہیں۔ یہاں جھوٹی قسم صرف زبان کا گناہ نہیں رہتی، بلکہ دوسرے کے مال پر ناحق قبضے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ مسلمان کے مال پر جھوٹی قسم کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے نام کو دنیا کے فائدے کے لیے استعمال کرنا بہت سنگین عمل ہے۔ لین دین میں اگر کوئی بات سچ نہ ہو تو اسے قسم کے ساتھ مضبوط کرنا اور بھی بڑا خطرہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کے مال پر جھوٹی قسم کھانا سخت گناہ ہے۔
- قسم کو دنیاوی فائدے کے لیے غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
- کسی کا مال جھوٹ کے ذریعے لینا ناحق عمل ہے۔
- تجارت اور دعوے میں سچ بولنا ضروری ہے۔
