صحیح مسلم حدیث ۲۹۹۸ - حج میں طواف اور سعی

حج کے احرام میں طواف اور سعی: سنت رسول صلى الله عليه وسلم کی پیروی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۹۸

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ ؟ ، فَقَالَ : وَمَا يَمْنَعُكَ ؟ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلَانٍ يَكْرَهُهُ ، وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ ، رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا ، فَقَالَ : وَأَيُّنَا أَوْ أَيُّكُمْ لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا ، ثُمَّ قَالَ : " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلَانٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا " .

وبرہ روایت:

ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں طواف کروں بیت اللہ کا اور میں نے حج کا احرام باندھا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ طواف سے تم کو کون روک سکتا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے فلانے کے فرزند کو دیکھا (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کو) کہ وہ اس کو مکروہ جانتے ہیں اور آپ ان سے زیادہ ہمارے پیارے ہیں اور میں ان کو دیکھتا ہوں کہ دنیا نے ان کو غافل کر دیا ہے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم میں اور تم میں کون ایسا ہے جس کو دنیا نے غافل نہیں کیا۔پھر کہا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے حج کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ میں سعی کی اور سنت اللہ کی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتر ہے تابعداری کے لیے فلانے کی سنت سے اگر تو سچا ایمان دار ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۹۸ کا خلاصہ

یہ حدیث حج کے احرام میں بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی سے متعلق ہے۔ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں حج کا احرام باندھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کون روک سکتا ہے؟ اس شخص نے ایک دوسرے بزرگ کا ذکر کیا کہ وہ اسے ناپسند جانتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پہلے دنیا کے فتنے کے بارے میں نرم مگر سچا جواب دیا، پھر اصل بات کہی کہ ہم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو دیکھا، آپ صلى الله عليه وسلم نے حج کا احرام باندھا، بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کی سنت پیروی کے لیے زیادہ حق رکھتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج کے احرام میں طواف اور سعی کا عمل نبی صلى الله عليه وسلم سے نقل ہوا ہے۔
  • لوگوں کے اقوال کے مقابلے میں سنت رسول صلى الله عليه وسلم کو ترجیح دی گئی۔
  • ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اعتراض کے جواب میں بھی انصاف کی بات کی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں