صحیح مسلم حدیث ۳ - قصداً جھوٹی حدیث بیان کرنے کی وعید

قصداً جھوٹی حدیث بیان کرنا: سیدنا انسؓ کی احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّه قَالَ : إِنَّهُ لَيَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا كَثِيرًا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .

‏‏‏‏ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے بہت حدیثیں بیان کرنے سے یہی بات روکتی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی: ”جو شخص مجھ پر قصداً جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا عمل بھی بتاتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے بہت زیادہ حدیثیں بیان کرنے سے یہی بات روکتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ پر قصداً جھوٹ بولے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔ یہاں صرف وعید نہیں، بلکہ صحابی کی عملی احتیاط بھی سامنے آتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بہت علم رکھنے کے باوجود زیادہ بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے۔ اس سے حدیث بیان کرنے کے آداب معلوم ہوتے ہیں۔ ہر سنی ہوئی بات کو حدیث کہہ دینا درست نہیں۔ حدیث کی تحقیق، ذمہ داری اور سچائی اس روایت کا اصل پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قصداً جھوٹی حدیث بیان کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔
  • علم رکھنے والے بھی حدیث بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے۔
  • زیادہ بیان کرنے کے بجائے درست بیان کرنا بہتر ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے وقت ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں