صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۰ - عمرہ کی سعی کی دوسری سند
طواف اور سعی کی روایت: دوسری سند سے وہی نبوی طریقہ
صحیح مسلم : ۳۰۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۰۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عیینہ کی طرح روایت کی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۰ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا وہی عمل نقل ہوا ہے جس میں مکہ آمد کے بعد بیت اللہ کا طواف، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت، اور صفا مروہ کے درمیان سعی کا ذکر ہے۔ چونکہ یہ روایت ایک الگ سند سے وہی بات بیان کرتی ہے، اس لیے اس کا مقصد کوئی نیا مسئلہ پیدا کرنا نہیں، بلکہ پہلے بیان شدہ عمل کی تائید ہے۔ عمرہ کی سعی، طواف کے بعد دو رکعت، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پیروی اس حدیث کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔ عام قاری کے لیے اس کا سادہ پیغام یہ ہے کہ عبادت کے طریقے میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو سامنے رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی نبوی عمل دوسری سند سے بھی نقل ہوا۔
- طواف، دو رکعت اور سعی کا تعلق ایک ترتیب سے بیان ہوا ہے۔
- عبادت کے طریقے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پیروی اہم ہے۔
