صحیح مسلم حدیث ۳۰۱ - روایت کی سند اور راویوں کی وضاحت

حدیث کی سند: راویوں کی امانت اور نقل کا اہتمام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۱

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَان .

‏‏‏‏ گزشتہ سند کے علاوہ راوی تین سندوں سے بیان کرتے ہیں شعبہ سے یہی حدیث۔

صحیح مسلم حدیث ۳۰۱ کا خلاصہ

یہ روایت اصل حکم یا نیا واقعہ بیان نہیں کرتی، بلکہ پچھلی حدیث کی سند کو مزید راویوں کے ذریعے بیان کرتی ہے۔ اس کا اصل موضوع حدیث کی سند، روایت کی نقل، اور راویوں کی بات کو محفوظ طریقے سے آگے پہنچانا ہے۔ عام قاری کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ حدیث صرف معنی کے طور پر نہیں بلکہ سند کے ساتھ محفوظ ہوئی۔ یہاں زہیر بن حرب، سعید بن عمرو، یحییٰ بن حبیب اور شعبہ جیسے راویوں کا ذکر ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ محدثین نے ایک ہی حدیث کے مختلف راستوں کو الگ الگ محفوظ کیا تاکہ حدیث کی نسبت صاف رہے۔ اس لیے سند حدیث، راوی حدیث، اور صحیح روایت جیسے الفاظ اس مضمون کے لیے مناسب ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث کی نقل میں راویوں کے نام اور سند کو اہم سمجھا گیا۔
  • ایک ہی حدیث کئی سندوں سے بیان ہو سکتی ہے۔
  • راوی کی سماعت کی وضاحت حدیث کے محفوظ نقل ہونے میں مدد دیتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں