صحیح مسلم حدیث ۳۰۲ - جھوٹی قسم اور نذر کی حد
جھوٹی قسم اور بے اختیار نذر کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلَامِ كَاذِبًا ، فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ ، عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِي شَيْءٍ لَا يَمْلِكُهُ " .
ثابت بن ضحاک روایت:
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شجرہ رضوان کے تلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص قسم کھائے کسی بات پر اسلام کے سوا اور دین کی (یعنی یوں کہے اگر میں ایسا کام کروں تو نصرانی ہوں یا یہودی ہوں یا ہندو ہوں) جھوٹی قسم، تو وہ ایسا ہی ہو گیا جیسا اس نے کہا۔ اور جس نے قتل کیا اپنے تئیں کسی چیز سے وہ اسی سے عذاب دیا جائے گا قیامت کے دن اور کسی آدمی پر وہ نذر پوری کرتا واجب نہیں جو اس کے اختیار میں نہیں۔ “ (جیسے نذر کرے اور کسی کا غلام آزاد کرنے کی)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں تین باتیں صاف بیان ہوئی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اسلام کے سوا کسی اور دین کے نام پر جھوٹی قسم کھانا بہت سخت بات ہے۔ آدمی زبان سے جو کہتا ہے، اسے معمولی نہ سمجھے۔ دوسری بات اپنی جان لینے کے بارے میں ہے کہ جو شخص دنیا میں کسی چیز سے اپنی جان لیتا ہے، قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب پائے گا۔ تیسری بات نذر کے بارے میں ہے کہ انسان پر وہ نذر لازم نہیں ہوتی جو اس کے اختیار میں ہی نہ ہو۔ اس لیے جھوٹی قسم کی حدیث، نذر کا حکم، اور جان کی حفاظت اس روایت کے اصل موضوعات ہیں۔ حدیث ہمیں زبان، جان اور وعدے تینوں میں احتیاط سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام کے سوا کسی اور دین کے نام پر جھوٹی قسم کھانا سخت منع ہے۔
- اپنی جان لینا بہت سنگین گناہ بتایا گیا ہے۔
- جس چیز پر اختیار نہ ہو، اس کی نذر لازم نہیں ہوتی۔
