صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۵ - متعتین پر صحابی کا بیان
متعہ حج کی حدیث: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا واضح بیان
صحیح مسلم : ۳۰۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۲۵
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَأَتَاهُ آتٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ " ، فَقَالَ جَابِرٌ : " فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا " .
ابونضرہ روایت:
میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک شخص نے آ کر کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ دونوں متعوں میں اختلاف کر رہے ہیں (یعنی ایک متعہ نساء میں اور ایک متعہ حج میں،) تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نے دونوں متعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کئیے ہیں پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو منع فرمایا تو ہم نے نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو نضرہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ ایک شخص آیا اور کہا کہ سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہم دونوں متعوں کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم نے دونوں متعے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں کیے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے منع فرمایا تو ہم نے دوبارہ نہیں کیا۔ اس روایت میں اصل بات سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا اپنا بیان ہے۔ یہاں متعہ حج اور دوسرے متعہ کا ذکر ہے، مگر تفصیلی حکم بیان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس حدیث کی تشریح میں احتیاط ضروری ہے۔ متن سے صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ صحابی نے پہلے عمل کا ذکر کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے منع کرنے کے بعد اپنا عمل چھوڑنے کا بتایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے مشاہدے کو صاف الفاظ میں بیان کیا۔
- حدیث میں دو متعوں کے بارے میں صحابہ کے درمیان اختلاف کا ذکر ہے۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے منع کرنے کے بعد سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ وہ عمل نہیں کیا۔
- ایسی روایات کو متن کی حد میں رہ کر سمجھنا چاہیے۔
