صحیح مسلم حدیث ۳۰۶۱ - طواف میں رکن یمانی اور حجر اسود کی سنت
رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام: طواف کی پیاری سنت
صحیح مسلم : ۳۰۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۶۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ ، إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے انہی دونوں یمن کی طرف کے کونوں کو بوسہ دیتے دیکھا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنا دیکھا ہوا عمل بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بیت اللہ کے کونوں میں سے انہی دو یمنی کونوں کو چھوتے دیکھا۔ اس کا مرکزی پیغام طواف کا طریقہ اور رکن یمانی کا استلام ہے۔ عام سرچ میں لوگ اسے حجر اسود کی حدیث، رکن یمانی کی سنت اور استلام کا مطلب کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ حدیث ہمیں سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ عبادت میں اپنی پسند نہیں، نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ معیار ہے۔ یہاں چاروں کونوں کا ذکر نہیں، بلکہ خاص طور پر دو کونوں کی بات ہے۔ اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے کہ طواف میں نبی صلى الله عليه وسلم سے انہی دو یمانی کونوں کا استلام نقل ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طواف میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی اصل رہنمائی ہے۔
- اس حدیث میں خاص دو یمانی کونوں کے استلام کا ذکر ہے۔
- عبادت میں اضافے کے بجائے ثابت شدہ عمل پر رہنا بہتر ہے۔
