صحیح مسلم حدیث ۳۰۸۷ - مزدلفہ تک نماز اور تلبیہ
عرفات سے مزدلفہ تک: نماز کا وقت اور تلبیہ
صحیح مسلم : ۳۰۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۸۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ : قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ ، أَنَاخَ فَبَالَ ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا ، ثُمَّ قُلْتُ : الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى ، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ " . (حديث موقوف) قَالَ قَالَ كُرَيْبٌ : فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي ، حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ " .
اسامہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھا عرفات سے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں گھاٹی پر پہنچے مزدلفہ کے قریب تو اونٹ بٹھایا پیشاب کیا اور آئے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکا وضو کیا پھر میں نے عرض کیا کہ نماز کا وقت آ گیا ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور مزدلفہ آئے اور نماز پڑھی پھر فضل کو اپنے پیچھے بٹھایا صبح کو مزدلفہ کی۔کریب نے کہا کہ خبر دی مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے کہ رسالت مآب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر لبیک پکارتے رہے یہاں تک کہ جمرہ پر پہنچے (یعنی جمرہ عقبہ پر)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۸۷ کا خلاصہ
یہ حدیث حج کے سفر کا ایک عملی منظر بیان کرتی ہے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے سوار تھے۔ عرفات سے واپسی پر آپ صلى الله عليه وسلم مزدلفہ کے قریب ایک جگہ اترے، حاجت سے فارغ ہوئے، ہلکا وضو کیا، پھر جب نماز کا پوچھا گیا تو فرمایا کہ نماز آگے ہے۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم مزدلفہ پہنچے اور نماز ادا کی۔ روایت کے آخر میں سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے یہ بات بھی آتی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جمرہ تک تلبیہ کہتے رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج میں سفر، وضو، نماز اور تلبیہ سب نبی صلى الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے ساتھ ادا کیے گئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عرفات سے واپسی پر نماز مزدلفہ میں ادا فرمائی۔
- سفر حج میں وضو اور نماز کے وقت کا عملی طریقہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
- جمرہ تک تلبیہ جاری رکھنے کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- حج کے اعمال میں نبی صلى الله عليه وسلم کی ترتیب کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
