صحیح مسلم حدیث ۳۱۱۹ - سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی مزدلفہ سے روانگی
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو مزدلفہ سے رات میں جانے کی اجازت
صحیح مسلم : ۳۱۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۱۹
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، جميعا عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً " فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ، فَأَذِنَ لَهَا " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَيْتَنِي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بہت بھاری بھر کم بی بی تھیں۔ سو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی کہ مزدلفہ سے رات ہی رات روانہ ہو جائیں (یعنی منیٰ کو) سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی سو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ کاش میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی جیسے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے لی تھی، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ آپ مزدلفہ سے امام کے ساتھ لوٹا کرتی تھیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھاری جسم والی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ وہ مزدلفہ یعنی جمع سے رات ہی میں روانہ ہو جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ کاش میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح اجازت لے لیتی جیسے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے لی تھی۔ روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ وہ امام کے ساتھ ہی مزدلفہ سے روانہ ہوتی تھیں۔ اس حدیث کا اصل پیغام اجازت کے ساتھ مزدلفہ سے رات کی روانگی ہے۔ یہاں ہمیں صرف اسی سبب اور اسی واقعے تک بات رکھنی چاہیے جو حدیث میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ سے رات میں روانگی کی اجازت لی۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عام طور پر امام کے ساتھ روانہ ہوتی تھیں۔
- روایت میں اجازت لینے کی اہمیت واضح ہے۔
