صحیح مسلم حدیث ۳۱۱۸ - مزدلفہ سے رات کو روانگی کی اجازت
مزدلفہ سے رات کو روانگی کی اجازت کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۱۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۱۸
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : " اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ ، تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ ، وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً يَقُولُ الْقَاسِمُ : وَالثَّبِطَةُ : الثَّقِيلَةُ ، قَالَ : فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ ، وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ " ، وَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ ، فَأَكُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ .
عائشہ روایت:
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت مانگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ کی رات کو کہ آپ سے پہلے منیٰ کو لوٹ جائیں اور لوگوں کی بھیڑ بھاڑ سے آگے نکل جائیں اور وہ ذرا فربہ بی بی تھیں، راوی نے کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ روانہ ہو گئیں قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لوٹنے کے اور ہم لوگ سب رکے رہے یہاں تک کہ صبح کی ہم نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹے اور اگر میں بھی اجازت لیتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جیسے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے لی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے چلی جاتی تو خوب تھا اور اس سے بہتر تھا جس کے سبب سے میں خوش ہو رہی تھی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۱۸ کا خلاصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس حدیث میں سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان کرتی ہیں۔ مزدلفہ کی رات سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہو جائیں، تاکہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ سے پہلے نکل سکیں۔ روایت میں آیا ہے کہ وہ بھاری جسم والی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روانہ ہونے سے پہلے چلی گئیں۔ باقی لوگ صبح تک رکے رہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر میں بھی ایسی اجازت لے لیتی تو مجھے پسند ہوتا۔ اس حدیث کا موضوع مزدلفہ سے رات کو روانگی، اجازت، اور بھیڑ سے پہلے نکلنے کی رخصت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ سے پہلے روانگی کی اجازت مانگی۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
- روایت میں بھیڑ سے پہلے نکلنے کا سبب بیان ہوا ہے۔
- باقی لوگ صبح تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکے رہے۔
