صحیح مسلم حدیث ۳۱۱۷ - مزدلفہ میں اندھیرے میں فجر
مزدلفہ میں اندھیرے میں فجر پڑھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۱۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۱۷
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسٍ .
اعمش روایت:
اعمش سے اسی اسناد سے مروی ہے یہی روایت اور اس میں یہ ہے کہ صبح کی نماز کو وقت سے پہلے پڑھا، اندھیرے میں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۱۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے مضمون ہی کی وضاحت کرتی ہے۔ اس میں اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر صبح کی نماز وقت سے پہلے، یعنی غلس میں پڑھی۔ غلس سے مراد وہ اندھیرا ہے جو صبح کے شروع میں باقی ہوتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع فجر مزدلفہ ہے، کیونکہ یہاں خاص طور پر صبح کی نماز کے وقت کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ ساتھ ہی پچھلی روایت کے مضمون کے مطابق مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کرنے کا پس منظر بھی متعلق رہتا ہے۔ مگر اس روایت کی اپنی خاص بات اندھیرے میں فجر پڑھنے کا ذکر ہے۔ سرچ کرنے والے لوگ عموماً فجر مزدلفہ حدیث، غلس میں نماز، اور حج میں فجر کا وقت جیسے الفاظ لکھتے ہیں۔ تشریح میں متن سے آگے بڑھ کر عمومی حکم نہیں بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں مزدلفہ کے موقع پر فجر کو غلس میں پڑھنے کا ذکر ہے۔
- یہ پچھلی روایت کے مضمون کی مزید وضاحت ہے۔
- حدیث خاص موقع کی کیفیت بیان کرتی ہے، عمومی تفصیل نہیں دیتی۔
