صحیح مسلم حدیث ۳۱۲۹ - سحر کے وقت مزدلفہ سے روانگی
سحر کے وقت مزدلفہ سے روانگی: متن کی حد تک سمجھیں
صحیح مسلم : ۳۱۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۲۹
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " بَعَثَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قُلْتُ : أَبَلَغَكَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَ بِي بِلَيْلٍ طَوِيلٍ ، قَالَ : لَا ، إِلَّا كَذَلِكَ بِسَحَرٍ ، قُلْتُ لَهُ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ ، وَأَيْنَ صَلَّى الْفَجْرَ ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا كَذَلِكَ .
ابن عباس روایت:
مجھ کو بھیج دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر شب سے مزدلفہ سے سامان کے ساتھ میں نے کہا: کیا تم کو خبر پہنچی ہے کہ انہوں نے یوں کہا کہ مجھ کو روانہ کیا بہت رات سے؟ تو راوی نے کہا کہ نہیں مگر یوں ہی کہا کہ سحر کو یعنی آخر شب کو روانہ کیا پھر میں نے ان سے پوچھا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بھی کہا کہ کنکر مارے ہم نے جمرہ کو فجر سے پہلے اور نماز کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: نہیں یہ کچھ نہیں کہا فقط اتنا ہی کہا جو اوپر کہا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سحر کے وقت مزدلفہ سے اپنے سامان کے ساتھ روانہ کیا۔ راوی سے خاص طور پر پوچھا گیا کہ کیا ابن عباسؓ نے بہت رات میں بھیجے جانے، فجر سے پہلے رمی، یا فجر کی نماز کی جگہ کا ذکر کیا؟ جواب میں بتایا گیا کہ انہوں نے صرف سحر کے وقت روانگی والی بات بیان کی۔ یہی اس حدیث کی خاص بات ہے۔ اس کا مرکزی موضوع سحر کے وقت مزدلفہ سے روانگی اور روایت کی احتیاط ہے۔ اس میں ہمیں متن سے زائد باتیں نہ جوڑنے کا صاف سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباسؓ کے بیان میں سحر کے وقت روانگی کا ذکر ہے۔
- راوی نے واضح کیا کہ فجر سے پہلے رمی کا ذکر اس روایت میں نہیں آیا۔
- حدیث سمجھتے وقت صرف بیان شدہ الفاظ پر اعتماد کرنا چاہیے۔
