صحیح مسلم حدیث ۳۱۳۱ - جمرہ عقبہ کی رمی کا طریقہ
جمرہ عقبہ کی رمی: سات کنکریاں اور ہر کنکری پر تکبیر
صحیح مسلم : ۳۱۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۳۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : رَمَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ أُنَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
عبدالرحمٰن روایت:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پچھلے جمرہ کو کنکریاں نالے کے اندر سے ماریں اور سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے تھے سو ان سے کسی نے کہا کہ لوگ تو اوپر سے ان کو کنکریاں مارتے تھے تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قسم ہے اس معبود کی کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ مقام (جہاں سے میں نے ماری ہیں) اس کا ہے جس پر سورہ بقرہ اتری ہے (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا عمل بیان ہوا ہے۔ انہوں نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہا۔ جب کسی نے بتایا کہ لوگ اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں، تو انہوں نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ یہی اس ذات کا مقام ہے جس پر سورہ بقرہ اتری، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع رمی جمرات کا طریقہ ہے۔ اس میں جگہ، تعداد، اور تکبیر تینوں باتیں صاف آتی ہیں۔ جمرہ عقبہ، سات کنکریاں، وادی سے رمی، اور ہر کنکری پر تکبیر اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں مارنے کا ذکر آیا ہے۔
- ابن مسعودؓ ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے تھے۔
- انہوں نے وادی کے اندر سے رمی کو نبی صلى الله عليه وسلم کے مقام سے نسبت دی۔
