صحیح مسلم حدیث ۳۱۹۸ - ہدی بیت اللہ بھیجنے کا حکم

ہدی بیت اللہ بھیجنا اور حلال رہنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۹۸

وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا أَفْلَح ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ، ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلًّا " .

عائشہ روایت:

میں اپنے ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے ہار بٹا کرتی تھی پھر آپ ان کے کوہانوں کو چیرا لگاتے پھر ہار ڈالتے اور بیت اللہ کی طرف بھیجتے پھر آپ خود مدینہ میں قیام کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز جو پہلے حلال تھی حرام نہ ہوتی۔

صحیح مسلم حدیث ۳۱۹۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے ہار اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کوہانوں کو نشان لگاتے، ہار ڈالتے اور انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیتے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں قیام کرتے، اور جو چیز پہلے حلال تھی وہ آپ پر حرام نہیں ہوتی تھی۔ یہ روایت “ہدی بھیجنے سے احرام نہیں ہوتا” کے موضوع پر بہت واضح ہے۔ یہاں ہار، نشان لگانا، بیت اللہ بھیجنا اور مدینہ میں حلال رہنا سب متن میں موجود ہے۔ اس لیے وضاحت بھی انہی باتوں تک محدود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہدی کے اونٹوں کے ہار سیدہ عائشہؓ بٹتی تھیں۔
  • آپ صلى الله عليه وسلم کوہان پر نشان لگاتے اور ہار ڈالتے تھے۔
  • ہدی بیت اللہ بھیجنے کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم مدینہ میں حلال رہتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں