صحیح بخاری حدیث ۱۶۹۶ - ہدی بھیجنے سے احرام لازم نہیں
ہدی کے قلادے بٹنے کی حدیث: صرف ہدی بھیجنے سے احرام نہیں
صحیح بخاری : ۱۶۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۹۶
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ أُحِلَّ لَهُ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے ہار میں نے اپنے ہاتھ سے خود بٹے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہار پہنایا، اشعار کیا، ان کو مکہ کی طرف روانہ کیا پھر بھی آپ کے لیے جو چیزیں حلال تھیں وہ (احرام سے پہلے صرف ہدی سے) حرام نہیں ہوئیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے ہار انہوں نے اپنے ہاتھ سے بٹے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کو قلادہ پہنایا، اشعار کیا، اور مکہ کی طرف روانہ کیا۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہ چیزیں حرام نہیں ہوئیں جو پہلے حلال تھیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع ہدی کے قلادے اور احرام کے حکم سے متعلق ہے۔ متن کے مطابق صرف ہدی کو قلادہ پہنا کر بھیج دینے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم کی طرح پابند نہیں ہوئے۔ اس لیے ہدی بھیجنے سے احرام لازم ہے یا نہیں جیسے سوال میں یہ حدیث اہم طور پر سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہدی کے قلادے اپنے ہاتھ سے بٹے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو قلادہ پہنایا اور اشعار کیا۔
- ہدی مکہ کی طرف روانہ کی گئی۔
- متن کے مطابق اس عمل سے حلال چیزیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام نہیں ہوئیں۔
