صحیح مسلم حدیث ۳۲۰۱ - قربانی کے جانور کا ہار اور احرام کا حکم
قربانی کے جانور کا ہار: ہدی بھیجنے سے احرام لازم نہیں ہوتا
صحیح مسلم : ۳۲۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۰۱
وَحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ فَيَبْعَثُ بِهِ ، ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلَالًا " .
عائشہ روایت:
میں اپنے کو دیکھ چکی ہوں کہ بٹتی تھی ہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی بکریوں کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھیج کر پھر حلال رہتے تھے (یعنی محرم نہ ہوتے تھے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۲۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ہدی یعنی قربانی کا جانور حرم کی طرف بھیجنا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی بکریوں کے لیے ہار بٹتی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ جانور بھیج دیتے، مگر خود گھر میں حلال حالت میں رہتے، یعنی محرم نہیں ہوتے تھے۔ اس سے عام قاری کو یہ بات صاف سمجھ آتی ہے کہ قربانی کے جانور کا ہار بنانا اور اسے بھیجنا ایک الگ عمل ہے، جبکہ احرام الگ چیز ہے۔ متن کے مطابق صرف ہدی بھیجنے سے وہ پابندیاں لازم نہیں ہوتیں جو محرم پر ہوتی ہیں۔ اسی لیے یہ حدیث ہدی بھیجنے کی حدیث اور احرام کے احکام کے باب میں بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی کا جانور حرم کی طرف بھیجا جا سکتا ہے۔
- جانور کے گلے میں ہار ڈالنا اس کی پہچان کے لیے ذکر ہوا ہے۔
- صرف ہدی بھیجنے سے بھیجنے والا خود محرم نہیں بنتا۔
- جو چیزیں حلال ہیں، وہ اس عمل سے خود بخود حرام نہیں ہوتیں۔
