صحیح مسلم حدیث ۳۲۲ - اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو

اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۲

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ قَتَلُوا ، فَأَكْثَرُوا وَزَنَوْا ، فَأَكْثَرُوا ، ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ ، وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً ، فَنَزَلَ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68 وَنَزَلَ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ سورة الزمر آية 53 " .

عبداللہ بن عباس روایت:

مشرکوں میں چند لوگوں نے (شرک کی حالت میں) بہت خون کیے تھے اور بہت زنا کیا تھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: آپ جو فرماتے ہیں اور جس راہ کی طرف بلاتے ہیں وہ خوب ہے اور جو آپ ہم کو بتلا دیں ہمارے گناہوں کا کفارہ تو ہم اسلام لائیں تب یہ آیت اتری «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا» یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور جس جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے اس کو نہیں مارتے مگر کسی حق کے بدلے اور زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ان کاموں کو (یعنی خون اور زنا اور شرک) کرے تو وہ بدلہ پائے گا اور اس کو درد ناک عذاب ہو گا قیامت کے روز اور ہمیشہ رہے گا عذاب میں ذلت سے، مگر جو کوئی ایمان لایا اور اس نے توبہ کی اور نیک کام کئے تو اس کی برائیاں مٹ کر نیکیاں ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ مہربان ہے بخشنے والا (اور اللہ نے ان لوگوں کو بتلا دیا کہ تم اسلام لاؤ۔ تمہارے اگلے گناہ شرک کے زمانے کے معاف ہو جائیں گے) اور یہ آیت اتری: «يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ» اخیر تک یعنی ”اے میرے بندوں! جنہوں نے گناہ کئے ہیں مت ناامید ہو اللہ کی رحمت سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں چند مشرک لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے شرک کی حالت میں قتل اور زنا جیسے بڑے گناہ کیے تھے۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے پچھلے گناہوں کا کوئی کفارہ ہے؟ اس پر وہ آیات اتریں جن میں شرک، ناحق قتل اور زنا سے بچنے کا حکم ہے، پھر ایمان، توبہ اور نیک عمل کا راستہ بتایا گیا۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی آئی کہ اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ توبہ کی حدیث انسان کو مایوسی سے نکالتی ہے اور اللہ کی طرف پلٹنے کا دروازہ کھلا بتاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بڑے گناہوں کے بعد بھی توبہ اور ایمان کا راستہ بند نہیں ہوتا۔
  • اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا درست رویہ نہیں۔
  • ایمان کے ساتھ توبہ اور نیک عمل کا ذکر اس روایت میں ساتھ آیا ہے۔
  • شرک، ناحق قتل اور زنا بڑے گناہ کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں