صحیح مسلم حدیث ۳۳۱ - دل کے خیالات پر درگزر
دل کے برے خیالات معاف ہونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۱
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وُمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا ، أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے درگزر کیا میری امت سے ان خیالوں پر (گناہ کے) جو دل میں آئیں جب تک ان کو زبان سے نہ نکالیں یا ان پر عمل نہ کریں۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے میری امت سے ان باتوں پر درگزر کیا ہے جو دل میں آئیں، جب تک لوگ انہیں زبان سے نہ نکالیں یا ان پر عمل نہ کریں۔ یہ حدیث دل کے خیالات، وسوسوں اور عمل کے فرق کو بہت سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔ ہر انسان کے دل میں کبھی ایسے خیالات آ سکتے ہیں جن سے وہ پریشان ہو جائے، مگر اس حدیث میں اصل حد بتائی گئی ہے: جب تک آدمی اسے بولے نہیں یا اس پر عمل نہ کرے، اس پر درگزر ہے۔ اس سے بندے کو امید ملتی ہے، مگر ساتھ ہی زبان اور عمل کی حفاظت کا سبق بھی ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دل میں آنے والا خیال، جب تک قول یا عمل نہ بنے، اس پر درگزر بیان ہوا ہے۔
- زبان سے بات نکالنا ذمہ داری کو بڑھا دیتا ہے۔
- برے خیال پر عمل نہ کرنا بندے کے لیے خیر کا سبب ہو سکتا ہے۔
- وسوسوں سے گھبرا کر مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
