صحیح مسلم حدیث ۳۴۰ - وسوسہ اور ایمان
وسوسوں سے پریشان ہونا ایمان کی علامت ہے
صحیح مسلم : ۳۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ : إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ ، قَالَ : وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ " .
ابوہریرہ روایت:
کچھ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہمارے دلوں میں وہ وہ خیال گزرتے ہیں، جن کا بیان کرنا ہم میں سے ہر ایک کو بڑا گناہ معلوم ہوتا ہے (یعنی اس خیال کو کہہ نہیں سکتے کیونکہ معاذاللہ وہ خیال کفر یا فسق کا خیال ہے۔ جس کا منہ سے نکالنا مشکل معلوم ہوتا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم کو ایسے وسوسے آتے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو عین ایمان ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہمارے دلوں میں ایسے خیال آتے ہیں جنہیں زبان سے بیان کرنا بھی ہمیں بہت بڑا گناہ لگتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہیں واقعی ایسے خیال آتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو عین ایمان ہے۔ اس حدیث کا موضوع وسوسہ اور ایمان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ برے خیال کو برا سمجھنا اور اسے زبان پر لانے سے جھجکنا ایمان والے دل کی کیفیت ہو سکتی ہے۔ یہ حدیث وسوسوں سے پریشان شخص کو مایوسی کے بجائے احتیاط اور اللہ کی طرف رجوع کا راستہ دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دل میں ناپسندیدہ وسوسہ آنا خود بخود عمل نہیں بن جاتا۔
- برے خیال کو برا سمجھنا ایمان کی کیفیت ہو سکتی ہے۔
- صحابہ کرام اپنے دل کے مسئلے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے۔
- وسوسوں کو زبان اور عمل میں لانے سے بچنا چاہیے۔
