صحیح مسلم حدیث ۳۳۹ - اللہ برائی مٹا بھی دیتا ہے
نیکی، برائی اور اللہ کی معافی کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۹
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَزَادَ ، وَمَحَاهَا اللَّهُ وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ إِلَّا هَالِكٌ .
دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے جیسے اوپر گزری۔ اتنا زیادہ ہے کہ ”اگر اس برائی کو کرے تو ایک برائی لکھی جائے گی یا اس کو بھی اللہ تعالیٰ مٹا دے گا اور کوئی تباہ نہ ہو گا اللہ کے پاس مگر جس کی قسمت میں تباہی ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۳۹ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی روایت کے معنی کے مطابق ہے، مگر اس میں ایک اضافہ آیا ہے۔ پہلے مضمون میں نیکی کے ارادے، نیکی کے عمل، برائی کے ارادے کو چھوڑنے اور برائی کے عمل کا حساب بیان ہوا۔ اس روایت میں یہ بھی آیا کہ اگر بندہ برائی کرے تو ایک برائی لکھی جائے گی، یا اللہ تعالیٰ اسے مٹا دے گا، اور اللہ کے پاس وہی تباہ ہو گا جس کے لیے تباہی لکھی ہو۔ اس حدیث کا موضوع اللہ کی رحمت، نیکی کا اجر اور برائی کے معاملے میں اللہ کی مہربانی ہے۔ یہ بندے کو نیکی پر آمادہ کرتی ہے اور برائی کے بعد بھی اللہ کی طرف رجوع کی امید دیتی ہے، مگر برائی کو معمولی سمجھنے کی اجازت نہیں دیتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- برائی کے عمل پر ایک برائی لکھے جانے کا ذکر ہے۔
- اللہ چاہے تو برائی کو مٹا بھی دیتا ہے۔
- نیکی کے ارادے اور عمل کی قدر پچھلی روایت کے مضمون میں قائم ہے۔
- بندے کو اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے مگر برائی سے بچنا چاہیے۔
