صحیح مسلم حدیث ۳۴۱ - روایت کی سند اور حدیث کی تائید

حدیث کی دوسری سند اور روایت کی مضبوطی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۱

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴۱ کا خلاصہ

اس روایت کا اصل موضوع سند ہے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث ایک اور سند کے ذریعے بھی مروی ہے۔ یہاں کوئی نیا حکم یا الگ واقعہ بیان نہیں کیا گیا، بلکہ اسی حدیث کے نقل ہونے کا دوسرا راستہ ذکر ہوا ہے۔ حدیث کی سند کو سمجھنا اس لیے اہم ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت کن راویوں کے ذریعے آگے پہنچی۔ اس روایت میں محمد بن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، اعمش، ابو صالح اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے راویوں کا ذکر آتا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ محدثین نے صرف مضمون نہیں بلکہ اس تک پہنچنے والے سلسلے کو بھی محفوظ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ روایت کی سند، راویوں کا ذکر اور حدیث کی نقل اسلامی علمی کام کا اہم حصہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث نقل کرتے وقت سند کا ذکر محدثین کے طریقے کا حصہ ہے۔
  • یہ روایت گزشتہ حدیث کو ایک دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
  • راویوں کے نام محفوظ کرنا حدیث کی روایت میں اہم سمجھا گیا۔
  • اس متن میں نیا حکم نہیں بلکہ روایت کے نقل ہونے کا دوسرا طریقہ بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں