صحیح مسلم حدیث ۳۴۸ - موقوف روایت اور وسوسے کا ذکر

موقوف روایت میں وسوسے والے سوال کی خبر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۸

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا يَزَالُ النَّاسُ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْنَادِ ، وَلَكِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ .

‏‏‏‏ محمد سے یہ حدیث موقوفاً ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اسناد میں نہیں ہے لیکن اخیر حدیث میں یوں ہے کہ سچ کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴۸ کا خلاصہ

اس روایت کا موضوع موقوف روایت اور وسوسے کا بیان ہے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ محمد سے یہ حدیث موقوفاً سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اس سند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں، لیکن حدیث کے آخر میں یہ الفاظ آئے کہ سچ کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ روایت کا مضمون پچھلی روایت جیسا ہے، مگر اس کے بیان کا انداز سند کے اعتبار سے کچھ مختلف ہے۔ یہاں کوئی نیا عملی حکم نہیں دیا گیا، بلکہ روایت کے نقل ہونے کی صورت بتائی گئی ہے۔ اس لیے یہ حدیث ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو موقوف حدیث، سند حدیث، ابوہریرہ روایت، یا وسوسہ حدیث کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بعض روایات موقوف انداز میں بھی نقل ہوتی ہیں۔
  • اس روایت میں مضمون پچھلی حدیث جیسا بتایا گیا ہے۔
  • آخر میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کا ذکر ہے۔
  • حدیث سمجھتے وقت سند کے فرق کو بھی دیکھا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں