صحیح مسلم حدیث ۳۴۷ - علم کے سوالات اور ایمان کا امتحان
علم کے سوالات میں حد سے بڑھنے کا وسوسہ
صحیح مسلم : ۳۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۷
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنِ الْعِلْمِ ، حَتَّى يَقُولُوا : هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ " ، قَالَ : وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ ، فَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ ، أَوَ قَالَ : سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگ تم سے علم کی باتیں پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے اللہ نے تو ہم کو پیدا کیا، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ “ راوی نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو بیان کرتے وقت ایک کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: سچ کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دو آدمی یہی پوچھ چکے اور یہ تیسرا ہے یا یوں کہا، ایک آدمی پوچھ چکا ہے اور یہ دوسرا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع سوالات اور وسوسہ ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ تم سے علم کی باتیں پوچھتے رہیں گے، یہاں تک کہ یہ کہیں گے کہ اللہ نے ہمیں پیدا کیا، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ روایت میں آگے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا عمل بھی ذکر ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے کہا: سچ کہا اللہ اور اس کے رسول نے، مجھ سے ایسے سوال ہو چکے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر سوال فائدہ دینے والا نہیں ہوتا۔ کچھ سوال آدمی کو ایمان کے معاملے میں بےجا الجھن میں ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے اللہ کو کس نے پیدا کیا حدیث، علم کے سوالات، اور ایمان کے وسوسے جیسے عنوانات میں یہ روایت بہت متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر علمی سوال فائدہ مند نہیں ہوتا، کچھ سوال وسوسہ بن سکتے ہیں۔
- اللہ کی تخلیق کے بارے میں غلط سوال آنے کی خبر دی گئی۔
- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس پیش گوئی کے سچ ہونے کا ذکر کیا۔
- ایمان کے معاملے میں بےجا الجھن سے بچنا چاہیے۔
