صحیح مسلم حدیث ۳۳۰ - اللہ طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا

لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۰

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284 ، قَالَ : دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ ، لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا " ، قَالَ : فَأَلْقَى اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286 ، قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286 ، قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا سورة البقرة آية 286 ، قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ .

عبداللہ بن عباس روایت:

جب یہ آیت اتری «وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ» تو لوگوں کے دلوں میں وہ بات سما گئی جو کسی چیز سے نہ سمائی تھی (یعنی بہت ڈر پیدا ہوا) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا» ہم نے سنا اور مان لیا اور اطاعت کی۔“پھر اللہ نے ایمان ان کے دلوں میں ڈال دیا اور اتارا اس آیت کو: «لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا» یعنی ”اللہ تکلیف نہیں دیتا کسی کو مگر اس کی طاقت کے موافق جو وہ کرے گا اپنے لیے نیک کام اس کا ثواب اسی کو ہے اور جو گناہ کرے گا اس کا پاپ اسی پر ہو گا۔ اے ہمارے مالک! مت پکڑ ہم کو بھول چوک میں۔“ مالک نے فرمایا: میں ایسا ہی کروں گا۔«رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا» ”اے ہمارے مالک! مت لاد ہم پر بوجھ جیسے تو نے لادا تھا اگلوں پر“، مالک نے فرمایا: ایسا ہی کروں گا «وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا» ”اور بخش دے ہم کو اور رحم کر ہم پر تو ہمارا مالک ہے“، مالک نے فرمایا: میں ایسا ہی کیا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب آیت نازل ہوئی کہ دل کی ظاہر یا چھپی بات کا حساب ہو گا، تو لوگوں کے دلوں میں سخت خوف پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ کہو: ہم نے سنا، مان لیا اور فرمانبرداری کی۔ پھر اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا اور آیت نازل ہوئی کہ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا۔ اسی آیت میں یہ دعا بھی آئی کہ اے ہمارے رب، اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہمیں نہ پکڑ۔ اللہ تعالیٰ نے قبولیت کا جواب فرمایا۔ یہ حدیث اطاعت، دل کے خوف، اللہ کی نرمی اور دعا کی قبولیت کا صاف پیغام دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشکل حکم سن کر بھی مؤمن کو اطاعت کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
  • اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔
  • بھول چوک پر اللہ سے معافی مانگنے کی دعا سکھائی گئی۔
  • دعا کے جواب میں اللہ کی قبولیت کا ذکر اس روایت میں ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں