صحیح مسلم حدیث ۳۲۲۵ - طواف افاضہ مکمل ہو جائے تو

طواف افاضہ مکمل ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۲۵

وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا أَفْلَح ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : كُنَّا نَتَخَوَّفُ أَنْ تَحِيضَ صَفِيَّةُ قَبْلَ أَنْ تُفِيضَ ، قَالَت : فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " أَحَابِسَتُنَا صَفِيَّةُ ؟ " ، قُلْنَا : قَدْ أَفَاضَتْ ، قَالَ : " فَلَا إِذَنْ " .

عائشہ روایت:

ہم ڈرتے تھے کہ صفیہ طواف افاضہ سے پہلے حائضہ نہ ہو جائیں۔ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کہ کیا صفیہ ہم کو روکے رکھے گی؟“ ہم نے بتایا کہ وہ طوافِ افاضہ کر چکیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب نہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۲۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہیں اندیشہ تھا کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا طواف افاضہ سے پہلے حائضہ نہ ہو جائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا صفیہ ہمیں روکیں گی؟ صحابہ نے عرض کیا کہ وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب نہیں۔ اس مختصر جواب میں اصل مسئلہ صاف ہو گیا۔ رکاوٹ اس وقت سمجھی جا سکتی تھی جب طواف افاضہ باقی ہوتا۔ جب یہ طواف ہو چکا تھا تو قافلے کو رکنے کی بات نہ رہی۔ یہ حدیث حج کے مسائل میں ترتیب کی اہمیت بتاتی ہے: پہلے طواف افاضہ ہوا، پھر حیض آیا، پھر کوچ کی اجازت ہوئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طواف افاضہ کے مکمل ہونے سے مسئلے کی صورت بدل گئی۔
  • حج کے مسئلے میں وقت اور ترتیب کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ کر حالت واضح فرمائی، پھر حکم دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں