صحیح مسلم حدیث ۳۲۲۸ - طواف وداع کی رخصت
طواف وداع کی رخصت: صفیہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ
صحیح مسلم : ۳۲۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۲۸
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ . ح وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً ، فقَالَ : " عَقْرَى حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا " ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : " أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " ، قَالَت : نَعَمْ ، قَالَ : " فَانْفِرِي " ،
عائشہ روایت:
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا ارادہ کیا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر غمگین اداس تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بانجیں سر منڈیاں کیا ہم کو روکتی ہیں۔“ پھر ان سے فرمایا: ”کیا تم نے نحر کے دن طواف افاضہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو۔“ (یعنی طواف وداع معاف)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۲۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا ارادہ کیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر غمگین تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم ہمیں روکنے والی ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے نحر کے دن طواف افاضہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو۔ روایت کے ترجمے میں وضاحت ہے کہ اس سے طواف وداع کی رخصت مراد ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ طواف افاضہ ہو چکا تھا، اس لیے روانگی کا حکم دیا گیا۔ یہ حدیث حج میں عورت کے ایک خاص عذر اور اس کے بعد دی گئی آسانی کو واضح کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حکم دینے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کا پوچھا۔
- نحر کے دن طواف افاضہ ہو چکا ہو تو اس روایت میں روانگی کا حکم ہے۔
- حج کے مسائل میں انسان کی حالت کو دیکھ کر بات کی گئی۔
