صحیح مسلم حدیث ۳۲۲۹ - صفیہ رضی اللہ عنہا کا طواف

صفیہ رضی اللہ عنہا کا طواف اور روانگی کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۲۹

وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَكَمِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَا يَذْكُرَانِ : كَئِيبَةً حَزِينَةً .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے اس میں غمگین، اداس کے الفاظ نہیں ہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۲۲۹ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے جو پچھلی حدیث میں آیا ہے، البتہ اس میں غمگین اور اداس کے الفاظ نہیں آئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی واقعہ مختلف راویوں کے الفاظ میں بیان ہو سکتا ہے، لیکن اصل بات برقرار رہتی ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں حیض کی خبر آئی، پھر یہ معلوم ہوا کہ وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں، اس کے بعد روانگی کا حکم دیا گیا۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے ہمیں الفاظ کے فرق کو سمجھنا چاہیے، مگر اصل مسئلے کو نہ بدلنا چاہیے۔ حائضہ عورت کا طواف وداع، طواف افاضہ، اور حج میں کوچ کا مسئلہ اسی واقعے کے اندر محدود انداز میں بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • الفاظ کے معمولی فرق سے اصل واقعہ تبدیل نہیں ہوتا۔
  • طواف افاضہ ہو چکا ہو تو اس واقعے میں روانگی کا حکم ملتا ہے۔
  • حدیث سمجھتے وقت مختلف روایات کے الفاظ کو احتیاط سے پڑھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں