صحیح مسلم حدیث ۳۲۳۱ - فتح مکہ اور کعبہ میں نماز

فتح مکہ کے دن کعبہ میں نماز کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۳۱

حدثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ : حدثنا حَمَّادٌ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَنَزَلَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ ، وَأَرْسَلَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ ، فَجَاءَ بِالْمِفْتَحِ ، فَفَتَحَ الْبَابَ ، قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِلَالٌ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، وَأَمَرَ بِالْبَابِ فَأُغْلِقَ ، فَلَبِثُوا فِيهِ مَلِيًّا ، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ ، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَبَادَرْتُ النَّاسَ ، فَتَلَقَّيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا ، وَبِلَالٌ عَلَى إِثْرِهِ ، فَقُلْتُ لِبِلَالٍ : " هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ ، أَيْنَ ؟ قَالَ : " بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ " ، قَالَ : وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى ،

ابن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے فتح مکہ کے دن اور کعبہ کے میدان میں اترے اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس کہلا بھیجا اور وہ کنجی لائے اور دروازہ کھولا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال اور اسامہ اور عثمان بن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہم اندر گئے اور دروازے کو حکم دیا کہ بند کر دو اور تھوڑی دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھولا پھر میں سب لوگوں سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا کعبہ کے باہر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے سو بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کہاں؟ انہوں نے کہا کہ دو کھمبوں کے بیچ میں اپنے منہ کے سامنے، اور میں بھول گیا کہ پوچھوں کتنی رکعتیں پڑھیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۲۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں فتح مکہ کے دن کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے صحن میں اترے، عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا گیا، وہ کنجی لائے اور دروازہ کھولا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، بلال، اسامہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم کعبہ میں داخل ہوئے۔ دروازہ بند کیا گیا اور کچھ دیر بعد کھولا گیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں سے پہلے آگے بڑھے اور بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے کے دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی کہا کہ وہ رکعتوں کی تعداد پوچھنا بھول گئے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں سوال کرتے تھے۔
  • اس روایت میں کعبہ کے اندر نماز کی جگہ بیان ہوئی ہے۔
  • راوی نے جس بات کو بھول گئے، اسے صاف لفظوں میں بیان کر دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں