حدیث ۳۲۳۲
صحیح مسلم : ۳۲۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۳۲
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ ، فقَالَ : " ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ " ، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ ، فقَالَ : وَاللَّهِ لَتُعْطِينِهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي ، قَالَ : فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ ، فَفَتَحَ الْبَابَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس سال مکہ فتح ہوا سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوا کعبہ کے صحن میں آئے اور اونٹنی کو بٹھایا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”کنجی لاؤ۔“ وہ اپنی ماں کے پاس گئے اور انہوں نے نہ دی، پھر عثمان نے کہا تم کنجی دے دو نہیں تو یہ تلوار میری پیٹھ سے پار ہو جائے گی، تب دی اور وہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کھولا۔ آگے وہی مضمون ہے جو اوپر گزرا حماد کی روایت میں۔
