صحیح مسلم حدیث ۳۲۴۰ - کعبہ کی تعمیر اور نبوی حکمت
کعبہ کی تعمیر اور نبوی حکمت: بنیاد ابراہیمی کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۲۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۴۰
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ ، وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ ، فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا " ،
عائشہ روایت:
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اگر تمہاری قوم نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا تو میں کعبہ توڑتا اور اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر بنا دیتا اس لیے کہ قریش نے جب کعبہ بنایا تو چھوٹا کر دیا اور میں اس میں ایک دروازہ پیچھے بھی بناتا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۲۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری قوم نے ابھی نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا تو میں کعبہ کو توڑ کر ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر بنا دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ قریش نے جب بیت اللہ بنایا تو اسے چھوٹا کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں پیچھے بھی ایک دروازہ بناتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع کعبہ کی تعمیر، بنیاد ابراہیمی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کی خواہش بیان فرمائی، مگر قوم کی نئی حالت کا لحاظ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی کام میں لوگوں کی کیفیت کو بھی دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر جب بات بڑے اجتماعی معاملے سے متعلق ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو بنیاد ابراہیمی پر بنانے کی خواہش بیان فرمائی۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم کے نئے مسلمان ہونے کی حالت کا لحاظ کیا۔
- روایت میں بتایا گیا کہ قریش نے بیت اللہ بناتے وقت اسے چھوٹا کر دیا تھا۔
