صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۵ - یمن، شام، عراق اور مدینہ کی فضیلت
یمن، شام اور عراق کی فتح کے بعد مدینہ چھوڑنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۳۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۶۵
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُفْتَحُ الْيَمَنُ ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، ثُمَّ يُفْتَحُ الشَّامُ ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " .
سفیان روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”یمن فتح ہو گا اور لوگ وہاں جائیں گے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اور لاد لے جائیں گے اپنے گھر والوں کو اور جو ان کا کہنا مانے اور مدینہ ان کے لئے بہتر تھا اگر وہ جانتے ہوتے، پھر شام فتح ہو گا اور لوگ وہاں جائیں گے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اور لادلے جائیں گے اپنے گھر والوں اور جو ان کا کہنا مانے اور مدینہ بہتر تھا ان کے لئے اگر وہ جانتے ہوتے، پھر عراق فتح ہو گا اور لوگ وہاں جائیں گے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اور لادلے جائیں گے اپنے گھروالوں کو اور جو ان کا کہنا مانے اگر جانتے ہوتے تو مدینہ طیبہ ان کے حق میں بہتر تھا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۵ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یمن فتح ہوگا، پھر لوگ وہاں جائیں گے اور اپنے گھر والوں کو بھی ساتھ لے جائیں گے، بلکہ جو ان کی بات مانے گا اسے بھی لے جائیں گے۔ پھر شام اور عراق کے بارے میں بھی یہی مضمون بیان فرمایا۔ ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا اگر وہ جانتے ہوتے۔ یہ حدیث مدینہ کی فضیلت کو واضح کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ بعض لوگ نئے علاقوں کی طرف رغبت کریں گے، مگر ان کے حق میں مدینہ بہتر ہوگا۔ یہاں ہمیں حدیث کی حد میں رہنا چاہیے؛ اس میں خاص فتوحات اور خاص لوگوں کا ذکر ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کی خیر ایسی ہے جسے ہر شخص پوری طرح نہیں سمجھ پاتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ طیبہ کی خیر حدیث میں صاف بیان ہوئی ہے۔
- لوگ کبھی ظاہری فائدے کی وجہ سے بہتر جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔
- کسی کو ساتھ لے جانے یا راضی کرنے سے پہلے خیر کو سمجھنا ضروری ہے۔
