صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۸ - روضہ جنت کی حدیث
روضہ جنت کی حدیث: میرے گھر اور منبر کے درمیان
صحیح مسلم : ۳۳۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۶۸
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي ، وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " .
عبداللہ بن زید المازنی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور منبر کے درمیان ایک چمن ہے جنت کے چمنوں میں سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع روضہ جنت کی فضیلت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے چمنوں میں سے ایک چمن ہے۔ یہی وہ مشہور حدیث ہے جسے لوگ روضہ مبارک یا ریاض الجنتہ کی حدیث کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ اس روایت میں بہت سادہ مگر بہت بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ہمیں اس کے الفاظ پر قائم رہنا چاہیے: گھر اور منبر کے درمیان کی جگہ کو جنت کے چمنوں میں سے ایک چمن فرمایا گیا۔ حدیث میں کسی خاص عمل، خاص تعداد یا خاص وعدے کا ذکر نہیں، اس لیے ایسی باتیں اس متن سے ثابت نہیں کی جائیں گی۔ اصل پیغام یہ ہے کہ مسجد نبوی کے اس حصے کی خاص نسبت اور فضیلت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر اور منبر کے درمیان جگہ کی خاص فضیلت ہے۔
- اس جگہ کو جنت کے چمنوں میں سے ایک چمن فرمایا گیا۔
- حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر خاص دعوے نہیں کرنے چاہییں۔
