صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۹ - منبر اور گھر کے درمیان روضہ
منبر اور گھر کے درمیان روضہ جنت کی روایت
صحیح مسلم : ۳۳۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۶۹
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا بَيْنَ مِنْبَرِي ، وَبَيْتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۹ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مبارک مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان جنت کے چمنوں میں سے ایک چمن ہے۔ اس حدیث میں الفاظ کی ترتیب میں معمولی فرق ہے، مگر معنی وہی ہے کہ مسجد نبوی کے اس خاص حصے کی فضیلت بیان ہوئی۔ عام لوگ اسے روضہ جنت، ریاض الجنۃ یا روضہ مبارک کی حدیث کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ اس حدیث کی خوبصورتی یہ ہے کہ بات بہت مختصر ہے، مگر دل میں مسجد نبوی کے ادب اور محبت کو تازہ کرتی ہے۔ اس متن میں کسی خاص دعا یا خاص طریقے کا ذکر نہیں، اس لیے وضاحت کو اسی بیان تک رکھنا درست ہے کہ یہ جگہ جنت کے چمنوں میں سے ایک چمن ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روضہ جنت کی فضیلت دوسری سند سے بھی بیان ہوئی ہے۔
- حدیث کا اصل مرکز گھر اور منبر کے درمیان کی جگہ ہے۔
- فضیلت کے بیان میں حدیث کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
