صحیح مسلم حدیث ۳۴۲۵ - تین دن کے بعد متعہ سے جدائی کا حکم

نکاح متعہ کا واقعہ اور تین دن بعد جدائی کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۲۵

وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالتَّمَتُّعِ مِنَ النِّسَاءِ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ أَنَا ، وَصَاحِبٌ لِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، حَتَّى وَجَدْنَا جَارِيَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَخَطَبْنَاهَا إِلَى نَفْسِهَا ، وَعَرَضْنَا عَلَيْهَا بُرْدَيْنَا ، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ ، فَتَرَانِي أَجْمَلَ مِنْ صَاحِبِي ، وَتَرَى بُرْدَ صَاحِبِي أَحْسَنَ مِنْ بُرْدِي ، فَآمَرَتْ نَفْسَهَا سَاعَةً ، ثُمَّ اخْتَارَتْنِي عَلَى صَاحِبِي ، فَكُنَّ مَعَنَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهِنَّ .

سبرہ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سال فتح مکہ میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا عورتوں سے متعہ کرنے کا۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں اور میرا ایک دوست قبیلہ بنی سلیم سے دونوں نکلے یہاں تک کہ ہم نے ایک جوان عورت کو پایا قبیلہ بنی عامر سے کہ گویا ایک جوان اونٹنی تھی اور پیغام دیا ہم نے اس کو متعہ کا اور پیش کیا اس پر اپنی چادروں کو اور وہ دیکھنے لگی اور مجھے خوبصورت دیکھتی تھی میرے رفیق سے زیادہ اور میرے رفیق کی چادر میری چادر اچھی دیکھتی تھی اور اس نے اپنے دل میں ایک گھڑی مشورہ کیا پھر مجھے اس نے پسند کیا میرے رفیق کے سوا اور متعہ کی عورتیں ہمارے لوگوں کے پاس تین دن تک رہیں پھر حکم کیا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چھوڑ دینے کا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴۲۵ کا خلاصہ

یہ حدیث فتح مکہ کے سال پیش آنے والے ایک واقعے کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو عورتوں سے متعہ کرنے کا حکم دیا۔ پھر وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ نکلے، ایک عورت سے بات ہوئی، چادروں کا ذکر آیا، اور عورت نے غور کے بعد سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ کو پسند کیا۔ روایت کے آخر میں اصل حکم سامنے آتا ہے کہ وہ عورتیں تین دن تک لوگوں کے پاس رہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جدائی کا حکم دیا۔ اس حدیث میں نکاح متعہ کے واقعے کی تفصیل ہے، مگر آخری بات جدائی کے حکم پر ختم ہوتی ہے۔ اس لیے اسے متعہ کی عارضی اجازت اور پھر ممانعت کے باب میں سمجھا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت میں واقعہ کی عملی تفصیل نقل ہوئی ہے۔
  • متعہ کی اجازت اس متن میں محدود مدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
  • آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدائی کا حکم دیا۔
  • کسی واقعے کے آخر میں آنے والا حکم خاص توجہ کا حق رکھتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں