صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۴ - ابن عباس کو سیدنا علی کی تنبیہ

متعہ نساء کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وضاحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۳۴

وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، ابني محمد بن علي ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيٍّ : أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُلَيِّنُ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فقَالَ : مَهْلًا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ " .

علی روایت:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ جائز رکھتے تھے متعہ نساء کو تو انہوں نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ اے ابن عباس! اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اس سے خیبر کے دن اور پلے ہوئے گدھوں کے گوشت سے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں بیان ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو متعہ نساء میں نرمی کرتے سنا، تو فرمایا: ٹھہر جاؤ اے ابن عباس، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن اس سے منع فرمایا تھا، اور پالتو گدھوں کے گوشت سے بھی منع فرمایا تھا۔ اس روایت میں ایک علمی گفتگو کا انداز نظر آتا ہے، جہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک بات کی اصلاح کر رہے ہیں۔ حدیث کا مرکزی موضوع نکاح متعہ سے ممانعت ہے، اور ساتھ ہی پالتو گدھوں کے گوشت کا حکم بھی ذکر ہوا ہے۔ اس روایت سے یہی سبق ملتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت معلوم ہو جائے تو اسی کو بنیاد بنایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • علمی غلط فہمی پر صحابی نے دوسرے صحابی کو متنبہ کیا۔
  • متعہ نساء کے بارے میں خیبر کی ممانعت یاد دلائی گئی۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو بحث میں فیصلہ کن حیثیت دی گئی۔
  • حدیث میں متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت دونوں کا ذکر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں