صحیح مسلم حدیث ۳۵۱ - امت کے سوالات اور اللہ پر ایمان

امت کے سوالات: یہ کیا ہے؟ پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۱

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُونَ : مَا كَذَا ، مَا كَذَا ، حَتَّى يَقُولُوا : هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ " .

انس بن مالک روایت:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تیری امت کے لوگ کہتے رہیں گے یہ کیا ہے؟ یہ کیا ہے؟ آخر یہ کہیں گے اللہ نے خلق کو پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع امت کے سوالات اور وسوسہ ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیری امت کے لوگ کہتے رہیں گے: یہ کیا ہے؟ یہ کیا ہے؟ آخر وہ کہیں گے کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ اس روایت میں سوالات کے ایک سلسلے کا ذکر ہے جو آخر میں ایک غلط اور پریشان کن سوال تک پہنچتا ہے۔ حدیث کا انداز خبر دینے کا ہے، یعنی یہ بتایا گیا کہ ایسا سوال لوگوں میں آئے گا۔ اس میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر بات کو بلا حد پوچھتے چلے جانا دل کو وسوسے میں ڈال سکتا ہے۔ اس لیے امت کے وسوسے، اللہ کو کس نے پیدا کیا، اور ایمان پر سوال جیسے موضوعات میں یہ حدیث بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امت میں ایسے سوالات پیدا ہونے کی خبر دی گئی۔
  • یہ کیا ہے، یہ کیا ہے جیسے سوالات آخر میں وسوسہ بن سکتے ہیں۔
  • اللہ کے بارے میں مخلوق جیسا سوال کرنا غلط سمت ہے۔
  • ایمان کے معاملے میں سوالات کو سنبھال کر رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں