صحیح مسلم حدیث ۳۵۲ - انس رضی اللہ عنہ کی روایت اور وسوسہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں وسوسے کا مضمون

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۲

حَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ كِلَاهُمَا ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاق لَمْ يَذْكُرْ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ : إِنَّ أُمَّتَك .

انس روایت:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اسی طرح جیسے اوپر گزری مگر اس میں یہ نہیں ہے کہ اللہ نے فرمایا: ”تیری امت کے لوگ۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۲ کا خلاصہ

اس روایت کا موضوع وسوسے والی حدیث کا ایک دوسرا طریق بیان ہے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت آئی جیسے اوپر گزری، مگر اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تیری امت کے لوگ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مضمون وہی ہے، مگر بیان کے الفاظ میں ایک فرق ذکر کیا گیا ہے۔ اس روایت میں اصل توجہ سند اور الفاظ کے فرق پر ہے۔ محدثین ایسے فرق کو محفوظ رکھتے تھے تاکہ معلوم رہے کہ کس روایت میں کون سا لفظ آیا اور کس میں نہیں آیا۔ عام قاری کے لیے اس کا فائدہ یہ ہے کہ وہ سمجھ سکے کہ حدیث کے الفاظ کو نقل کرنے میں امانت بہت ضروری ہے۔ یہ روایت وسوسہ حدیث، انس بن مالک روایت، اور حدیث کے الفاظ کے فرق جیسے موضوعات سے تعلق رکھتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی مضمون مختلف الفاظ کے ساتھ روایت ہو سکتا ہے۔
  • اس روایت میں پچھلی حدیث کے ایک لفظی فرق کا ذکر ہے۔
  • حدیث نقل کرتے وقت الفاظ کی امانت اہم ہے۔
  • یہ متن نیا حکم نہیں بلکہ روایت کے فرق کو بیان کرتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں