صحیح مسلم حدیث ۳۵۵۹ - قرآن اترتے وقت عزل

عزل کی حدیث: ہم عزل کرتے تھے اور قرآن نازل ہو رہا تھا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۵۹

حدثنا حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقَ : أَخْبَرَنا ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ " ، زَادَ إِسْحَاقَ ، قَالَ سُفْيَانُ : لَوْ كَانَ شَيْئًا يُنْهَى عَنْهُ لَنَهَانَا عَنْهُ الْقُرْآنُ .

جابر روایت:

ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اترتا تھا اور اسحٰق کی روایت میں یہ بھی ہے کہ سفیان نے کہا کہ اگر عزل برا ہوتا تو قرآن میں اس کی نہی اترتی۔

صحیح مسلم حدیث ۳۵۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا مختصر مگر مشہور بیان ہے کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اترتا تھا۔ اسحاق کی روایت میں سفیان کا قول بھی ہے کہ اگر عزل ایسی چیز ہوتی جس سے روکا جاتا تو قرآن اس سے منع کر دیتا۔ اس روایت میں عزل کی حدیث کا انداز پچھلی روایات سے مختلف ہے۔ یہاں سوال و جواب نہیں، بلکہ صحابی اپنے زمانے کا عمل بیان کر رہے ہیں۔ متن سے اتنی بات سامنے آتی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں عزل کا عمل موجود تھا اور قرآن نازل ہو رہا تھا۔ سفیان کے قول کو صحابی کے اصل جملے سے الگ سمجھنا چاہیے، کیونکہ وہ روایت میں اضافہ کے طور پر نقل ہوا ہے۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے عزل کا حکم، زمانہ نبوی، اور قرآن کے نزول کا تعلق سامنے آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے زمانہ نبوی میں عزل کا عمل بیان کیا۔
  • روایت میں قرآن کے نزول کا ذکر آیا ہے۔
  • سفیان کا قول اصل حدیث کے ساتھ الگ طور پر نقل ہوا ہے۔
  • حدیث کو اس کے مختصر الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں