صحیح مسلم حدیث ۳۵۹۴ - الفاظ کے فرق کے ساتھ وہی حکم
رضاعت کی مقدار: لفظی فرق کے ساتھ ایک ہی حکم
صحیح مسلم : ۳۵۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۹۴
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَمَّا إِسْحَاقَ ، فقَالَ كَرِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ : أَوِ الرَّضْعَتَانِ أَوِ الْمَصَّتَانِ ، وَأَمَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، فقَالَ : وَالرَّضْعَتَانِ وَالْمَصَّتَانِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے ساتھ۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۹۴ کا خلاصہ
اس روایت میں بتایا گیا کہ پچھلی حدیث ایک اور سند سے آئی ہے، مگر الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ایک روایت میں ایک ترتیب سے رضعتان اور مصتان کے الفاظ آئے، اور دوسری میں الفاظ کی ترتیب بدل گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اصل حکم وہی ہے: ایک یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت نہیں ہوتی۔ رضاعت کی حدیث پڑھتے ہوئے کبھی لفظی ترتیب میں فرق نظر آتا ہے، مگر قاری کو دیکھنا چاہیے کہ اصل بات کیا ہے۔ اس حدیث کے اندر اصل بات رضاعت کی مقدار ہے، نہ کہ کوئی نیا واقعہ۔ اس لیے ایک بار دودھ چوسنے کی حدیث، دو بار دودھ پینے سے حرمت، اور رضاعت کتنی دفعہ سے ثابت ہوتی ہے جیسے سوالات اسی مضمون سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- الفاظ کی تقدیم و تاخیر سے یہاں اصل حکم نہیں بدلتا۔
- روایت کا موضوع ایک یا دو بار دودھ چوسنے کا حکم ہے۔
- حدیث کے متن میں لفظی فرق کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔
