صحیح مسلم حدیث ۳۵۹۵ - املجہ اور املجتان کا حکم
املجہ اور املجتان: رضاعت کی مقدار کا بیان
صحیح مسلم : ۳۵۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۹۵
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ " .
الفاظ کے اختلاف کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۹۵ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی وہی مضمون ایک اور سند سے آیا ہے، مگر الفاظ میں اختلاف ہے۔ یہاں املجہ اور املجتان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جن کا تعلق ایک یا دو بار دودھ چوسنے کے بیان سے ہے۔ حدیث کا اصل پیغام وہی ہے کہ ایک یا دو بار چوسنے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ بات نکاحی مسائل میں اس وقت اہم بنتی ہے جب کوئی دعویٰ کرے کہ دودھ پلایا گیا تھا، مگر مقدار صرف ایک یا دو بار بتائی جائے۔ اس روایت میں کوئی نیا واقعہ نہیں، بلکہ پہلے بیان شدہ حکم کو دوسرے الفاظ میں نقل کیا گیا ہے۔ اس لیے رضاعت کی مقدار اور ایک یا دو رضعت کا مسئلہ اس حدیث کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک یا دو بار چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، یہی الفاظ حدیث میں آئے ہیں۔
- رضاعت کے معاملے میں گمان کے بجائے واضح شرعی بات پوچھی گئی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سوال کا جواب مختصر اور صاف انداز میں دیا۔
- نکاحی مسئلے میں دودھ پلانے کی مقدار اہم سوال بن سکتی ہے۔
