صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۵ - سالم کے لیے خاص رخصت
سالم رضی اللہ عنہ کی رضاعت: خاص رخصت کا بیان
صحیح مسلم : ۳۶۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۰۵
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ : " أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ : وَاللَّهِ مَا نَرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا " .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی فرماتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیبیاں رضی اللہ عنہن انکار کرتی تھیں اس سے کہ کوئی ان کے گھر میں آئے اس طرح کا دودھ پی کر۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتی تھیں کہ ہم تو یہی جانتی ہیں کہ یہ خاص رخصت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالم کے لیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے ایسا دودھ پلا کر کسی کو نہیں لائے اور نہ ہم کو کسی کے سامنے کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۵ کا خلاصہ
یہ روایت اسی باب کی سب سے اہم توضیحی روایت ہے، کیونکہ اس میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واضح بیان آیا ہے۔ وہ فرماتی تھیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی باقی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اس بات کو قبول نہیں کرتی تھیں کہ کوئی شخص اس طرح کی رضاعت کے ذریعے ان کے گھروں میں آئے۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتی تھیں کہ ہم اسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف سے سالم رضی اللہ عنہ کے لیے خاص رخصت ہی سمجھتی ہیں۔ روایت کے الفاظ کے مطابق انہوں نے کہا کہ نبی صلى الله عليه وسلم ہمارے سامنے ایسا دودھ پلا کر کسی کو نہیں لائے، نہ ہمیں کسی کے سامنے کیا۔ اس لیے اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ ازواج مطہرات نے سالم مولیٰ ابی حذیفہ کے واقعے کو عام قاعدہ نہیں سمجھا، بلکہ خاص رخصت کے طور پر بیان کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے اس رضاعت کو عام اجازت نہیں سمجھا۔
- سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے سالم رضی اللہ عنہ کے لیے خاص رخصت کہا۔
- حدیث میں گھر میں داخلے کے معاملے میں احتیاط کا انداز صاف نظر آتا ہے۔
