صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۶ - رضاعت وہی معتبر ہے جو بھوک کے وقت ہو
رضاعت سے حرمت: دودھ کے رشتوں میں احتیاط کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۶۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۰۶
حدثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حدثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَت عَائِشَةُ : دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، قَالَت : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، قَالَت : فقَالَ : " انْظُرْنَ إِخْوَتَكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ " ،
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے نزدیک ایک شخص تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر میں نے غصہ دیکھا اور میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! یہ میرا دودھ شریک بھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ ذرا غور کیا کرو دودھ کے بھائیوں میں اس لیے کہ دودھ پینا وہی معتبر ہے جو بھوک کے وقت میں ہو۔“ (یعنی ایام رضاعت میں ہو یعنی دو برس کے اندر)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رضاعت سے بننے والے رشتوں کے بارے میں صاف احتیاط سکھائی گئی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ان کے پاس آئے، وہاں ایک شخص بیٹھا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کو یہ بات ناگوار ہوئی اور چہرے پر غصہ ظاہر ہوا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یہ میرا دودھ شریک بھائی ہے۔ اس پر نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اپنے دودھ کے بھائیوں کے بارے میں غور کیا کرو، کیونکہ رضاعت وہی معتبر ہے جو بھوک کے وقت ہو۔ متن میں اصل بات یہی ہے کہ ہر دعوے کو فوراً کافی نہ سمجھا جائے، بلکہ دیکھا جائے کہ رضاعت واقعی ایسی تھی جو حرمت کا سبب بنتی ہے۔ اس حدیث میں دودھ کا رشتہ، رضاعت سے حرمت اور گھر میں داخلے کی احتیاط ایک ساتھ بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دودھ کے بھائی کا دعویٰ ہو تو اس میں غور اور احتیاط کی ضرورت ہے۔
- حدیث کے مطابق معتبر رضاعت وہ ہے جو بھوک کے وقت ہو۔
- گھر میں غیر مرد کے بیٹھنے پر نبی صلى الله عليه وسلم نے ناگواری ظاہر فرمائی، پھر وضاحت سنی۔
