صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۷ - رضاعت من المجاعہ کی تائیدی روایت
رضاعت من المجاعہ: دودھ کے رشتے کی تحقیق
صحیح مسلم : ۳۶۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۰۷
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا : حدثنا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ . ح وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حدثنا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، بِإِسْنَادِ أَبِي الْأَحْوَصِ كَمَعْنَى حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُمْ قَالُوا : مِنَ الْمَجَاعَةِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۷ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے ہم معنی ہے اور مختلف سندوں سے اسی پیغام کو مضبوط انداز میں بیان کرتی ہے۔ اصل مضمون یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص تھا، نبی صلى الله عليه وسلم نے ناگواری محسوس فرمائی، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ دودھ شریک بھائی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے دودھ کے بھائیوں کے بارے میں غور کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ رضاعت بھوک کے وقت کی ہوتی ہے۔ اس روایت میں الفاظ کا فرق کم ہے، مگر مقصد وہی ہے: دودھ کے رشتے کو معمولی دعوے پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ جو رشتہ گھر میں آمد و رفت اور پردے کے معاملے کو بدلتا ہے، اس کے بارے میں صاف تحقیق ہونی چاہیے۔ حدیث کا زور اسی بات پر ہے کہ رضاعت سے حرمت کے لیے اصل رضاعت معتبر ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے نقل ہوا، جس سے روایت کا موضوع واضح رہتا ہے۔
- دودھ کے رشتے کے دعوے میں احتیاط کو حدیث نے نمایاں کیا۔
- رضاعت کے اثر کو اسی وقت سمجھا جائے جب وہ بھوک کے زمانے سے متعلق ہو۔
