صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۸ - اوطاس کی قیدی عورتوں کا حکم
اوطاس کی قیدی عورتوں کی حدیث اور سورہ نساء کی آیت
صحیح مسلم : ۳۶۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۰۸
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حدثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسَ ، فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا ، فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ : وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24 ، أَيْ فَهُنَّ لَكُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ " ،
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک لشکر روانہ کیا اور وہ لوگ دشمن سے مقابل ہوئے اور ان سے لڑے اور غالب آئے اور ان کی عورتیں پکڑ لائے سو بعض اصحاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کی صحبت کرنے کو برا جانا۔ اس وجہ سے کہ ان کے شوہر مشرکین موجود تھے، سو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری«وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ» (۴-النسأ:۲۴) یعنی ”حرام ہیں عورتیں شوہروں والیاں مگر جو تمہاری ملک میں آ گئیں۔“یعنی قید میں کہ وہ تم کو حلال ہیں جب ان کی عدت گزر جائے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۸ کا خلاصہ
یہ حدیث غزوہ حنین کے بعد اوطاس کی طرف بھیجے گئے لشکر کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لشکر کا دشمن سے مقابلہ ہوا، جنگ ہوئی، مسلمان غالب آئے اور کچھ عورتیں قید میں آئیں۔ ان عورتوں کے شوہر مشرکین میں موجود تھے، اس لیے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان سے تعلق قائم کرنے کو برا یا مشکل سمجھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء کی آیت نازل فرمائی: «وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ»۔ اس روایت میں وضاحت آئی ہے کہ وہ تمہارے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت گزر جائے۔ اس متن میں مرکزی بات یہی ہے کہ صحابہ نے شبہ محسوس کیا، پھر آیت کے ذریعے حکم بیان ہوا، اور عدت کا لحاظ ذکر کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے معاملہ مشکل سمجھا تو وحی کے حکم کا انتظار ہوا۔
- حدیث میں سورہ نساء کی آیت کے ذریعے اس مسئلے کا جواب بیان ہوا۔
- 3608 کے متن میں عدت گزرنے کے بعد حلال ہونے کا ذکر آیا ہے۔
