صحیح مسلم حدیث ۳۶۱ - مال بچاتے ہوئے شہادت کا مقام
مال کا دفاع اور شہادت کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۱
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ ، فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ خَالِدٌ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
ثابت روایت:
جب عبداللہ بن عمرو اور عنبسہ بن ابی سفیان میں فساد ہوا۔ تو دونوں مستعد ہوئے لڑنے کے لئے۔ خالد بن العاص یہ سن کر سوار ہوئے اور عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے اور ان کو سمجھایا۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا: تجھے معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مارا جائے اپنا مال بچانے کے لئے وہ شہید ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۶۱ کا خلاصہ
یہ حدیث مال کے دفاع کے بارے میں بہت صاف بات بیان کرتی ہے۔ روایت میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے واقعے کا ذکر ہے، جہاں لڑائی کی نوبت آ رہی تھی اور خالد بن العاص نے انہیں سمجھایا۔ اس موقع پر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا: جو شخص اپنا مال بچانے کے لیے مارا جائے، وہ شہید ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ناحق مال چھیننا معمولی بات نہیں۔ مال کی حفاظت، جان کی حفاظت کی طرح ایک سنجیدہ حق ہے۔ یہ حدیث ہر جھگڑے کو بڑھانے کی دعوت نہیں دیتی، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ اگر کوئی اپنے مال پر ناحق حملے کے وقت مارا جائے تو اس کے لیے شہادت کا لفظ آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ناحق مال چھیننا سنگین ظلم ہے۔
- اپنے مال کی حفاظت ایک معتبر حق ہے۔
- حدیث میں شہادت کا لفظ خاص حالت کے لیے آیا ہے۔
- لڑائی کے موقع پر نصیحت اور سمجھانا بھی اہم عمل ہے۔
