صحیح مسلم حدیث ۳۶۱۱ - اوطاس کے دن قیدی عورتوں کا واقعہ

اوطاس کے دن قیدی عورتیں اور سورہ نساء کی آیت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۱۱

وحَدَّثَنِيهِ وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَتَخَوَّفُوا ، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24 " ،

ابوسعید روایت:

کچھ عورتیں قید میں ہاتھ لگیں غازیوں کے اوطاس کے دن اور ان کے شوہر تھے (یعنی کفار میں) اور صحابہ ان کی صحبت سے ڈرے سو یہ آیت اتری«وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ» (۴-النسأ:۲۴)

صحیح مسلم حدیث ۳۶۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ مختصر الفاظ میں اوطاس کے دن کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ غازیوں کے ہاتھ کچھ عورتیں قید میں آئیں، اور ان کے شوہر بھی موجود تھے، یعنی وہ کفار میں تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے بارے میں ڈر اور احتیاط محسوس کی۔ اسی موقع پر آیت نازل ہوئی: «وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ»۔ یہ روایت کسی لمبی تفصیل میں نہیں جاتی، بلکہ صرف مسئلے کی وجہ اور آیت کے نزول کو بیان کرتی ہے۔ اس لیے اس حدیث کی وضاحت میں اصل الفاظ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ یہاں سبق یہ ہے کہ صحابہ نے اپنے دل میں پیدا ہونے والے شرعی خوف کو نظر انداز نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آیت کے ذریعے حکم واضح فرمایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قیدی عورتوں کے معاملے میں شرعی خوف محسوس کیا۔
  • آیت النساء 24 کو اسی مسئلے کے جواب میں ذکر کیا گیا۔
  • روایت مختصر ہے، اس لیے اس میں اضافی تفصیلات شامل نہیں کرنی چاہییں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں