صحیح مسلم حدیث ۳۶۱۵ - بچہ فراش والے کا ہے
بچہ بستر والے کا ہے: الولد للفراش حدیث
صحیح مسلم : ۳۶۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۱۵
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " ،
سیدنا ابوہریرہ روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکا بستر والے کا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۶۱۵ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر مگر معنی کے لحاظ سے نہایت واضح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: “لڑکا بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔” متن میں کوئی لمبی کہانی نہیں، بلکہ ایک اصولی جملہ ہے۔ اس اصول کا تعلق نسب کے معاملے سے ہے، یعنی جب بچہ کسی عورت کے بستر یا نکاح کے تعلق میں پیدا ہو تو نسبت فراش والے کی طرف ہوتی ہے، اور زنا کا دعویٰ کرنے والے کے لیے بچے میں حصہ یا حق نہیں بتایا گیا۔ اس حدیث کی تشریح میں وہی الفاظ مرکز میں رہنے چاہییں جو روایت میں آئے ہیں: الولد للفراش، وللعاهر الحجر۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو حدیث نسب کے دعووں کو خواہش یا شبہ پر نہیں چھوڑتی بلکہ ایک واضح اصول دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث نے نسب کے باب میں “فراش” کو اصل قرار دیا۔
- زنا کے دعوے کو بچے کے حق میں بنیاد نہیں بنایا گیا۔
- مختصر الفاظ میں ایک اہم خاندانی مسئلے کا اصول بیان ہوا۔
