صحیح بخاری حدیث ۲۴۲۱ - نسب کا فیصلہ اور الولد للفراش

نسب کی حدیث: الولد للفراش کا آسان مطلب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۲۱

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ أَنْ أَنْظُرَ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ ، فَأَقْبِضَهُ فَإِنَّهُ ابْنِي ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي : وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " .

عائشہ روایت:

زمعہ کی ایک باندی کے لڑکے کے بارے میں عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بھائی نے مجھ کو وصیت کی تھی کہ جب میں (مکہ) آؤں اور زمعہ کی باندی کے لڑکے کو دیکھوں تو اسے اپنی پرورش میں لے لوں۔ کیونکہ وہ انہیں کا لڑکا ہے۔ اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ وہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی باندی کا لڑکا ہے۔ میرے والد ہی کے ”فراش“ میں اس کی پیدائش ہوئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے اندر (عتبہ کی) واضح مشابہت دیکھی۔ لیکن فرمایا کہ اے عبد بن زمعہ! لڑکا تو تمہاری ہی پرورش میں رہے گا کیونکہ لڑکا ”فراش“ کے تابع ہوتا ہے اور سودہ تو اس لڑکے سے پردہ کیا کر۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۲۱ کا خلاصہ

یہ حدیث نسب کے معاملے میں ایک صاف اصول بتاتی ہے۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایک بچے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ایک طرف وصیت کا دعویٰ تھا، دوسری طرف یہ بات تھی کہ بچہ زمعہ کے فراش پر پیدا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے میں عتبہ کی مشابہت دیکھی، مگر فیصلہ اس بنیاد پر فرمایا کہ لڑکا فراش کے تابع ہوتا ہے۔ اسی لیے بچہ عبد بن زمعہ کے سپرد کیا گیا۔ ساتھ ہی سودہ رضی اللہ عنہا کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نسب کی حدیث میں اصل فیصلہ ظاہر شرعی بنیاد پر ہوتا ہے، اور احتیاط کا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نسب کے جھگڑے میں فیصلہ ظاہری شرعی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
  • مشابہت دیکھی جا سکتی ہے، مگر فیصلہ صرف اسی پر قائم نہیں کیا گیا۔
  • پردے کے معاملے میں احتیاط کو اہم رکھا گیا۔
  • اختلاف ہو تو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی طرف لوٹائی جاتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں